اڈپی 29؍نومبر(ایس اونیوز) اڈپی میں کانگریس پارٹی کارکنان اور لیڈران کی شرکت کے لئے یہاں پہنچنے پر ڈی کے شیوکمار نے اخبار نویسوں کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ریاستی کابینہ میں توسیع کو ایک بار پھر ملتوی کیا جانا ، بی جے پی کا اندرونی مسئلہ ہے۔ ہمار ا اس سے کوئی لینا دینا نہیں ہے اور اس سلسلے میں تبصرہ کرنا ہمارے لئے غیر ضروری ہے۔
’لوجہاد‘اور ’گئو کشی ‘ پر پابندی کے لئے لائے جارہے قوانین کے بارے میں پوچھنے پر شیو کمار نے کہا کہ ’’گئو کشی مخالف قانون کوئی نئی چیز نہیں ہے۔ یہ قانون بہت پہلے سے موجود ہے۔جہاں تک ’لو جہاد‘کا معاملہ ہے اس پر تو نیشنل لیڈروں کوفیصلہ کرنا چاہیے اور بتانا چاہیے کہ کس کس کے ہندو بچوں نے دوسرے مذاہب کے لیڈرو ں سے شادیاں کی ہیں ۔ یہ انڈیا ہے۔ لوگ مختلف پارٹیوں سے تعلق رکھ سکتے ہیں، لیکن مذہب کا انتخاب ان کی اپنی پسند ہے۔ اس ملک میں پیار، عقیدہ اور انسانیت بہت ہی اہم ہوتا ہے۔‘‘
جب ان سے پوچھا گیا کہ کمار سوامی مخلوط حکومت گرانے کے لئے انہیں کیوں ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں تو انہوں نے کہا :’’کمار سوامی کو جو چاہے کہنے دیجئے۔ وہ ایک بزرگ شخصیت ہیں۔ وہ اتنے جلدی یہ سب کہہ رہے ہیں؟ اگر انہیں اور بھی کچھ کہنا ہوتو کہنے دیجیے۔ مجھے خوشی ہوگی۔